خالی الذہن

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بے اثر، پرسکون، ذہن کی وہ حالت جس میں موافقت و مخالفت دونوں کا تصور نہ ہو۔ "میں سردی گرمی کی مختلف النوع کیفیات سے بھی خالی الذہن رہتا ہوں۔"      ( ١٩٨٠ء، ماہ و روز، ٢٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'خالی' کے بعد 'ال' حرف تخصیص کے ساتھ عربی اسم 'ذہن' لگانے سے مرکب 'خالی الذہن' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٩٩ء کو "حیات جاوید" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے اثر، پرسکون، ذہن کی وہ حالت جس میں موافقت و مخالفت دونوں کا تصور نہ ہو۔ "میں سردی گرمی کی مختلف النوع کیفیات سے بھی خالی الذہن رہتا ہوں۔"      ( ١٩٨٠ء، ماہ و روز، ٢٨ )